خطبہ اشباح

تمام حمد اس کے لئے ہے کہ جوفیض وعطا کے روکنے سے مال دارنہیںہوجاتا اورجو دوعطاسے کبھی عاجز وقاصر نہیں ہوتا۔ س لئے کہ سواہردینے والے کے یہاں داد وعیش سے کمی واقع ہوتی ہے اورہاتھ روک لینے پر انہیںبراسمجھا جاسکتاہے۔ وہ فائدہ بخش نعمتو ں اورعطیوںکی فراوانیوںاورروزیوں (کی تقسیم ) سے ممنون احسان بنانے والاہے۔ ساری مخلوق اس کاکبنہ ہے ۔ اس نےسب کے رزق کاذمہ لیاہے اورسب کی روزیاں مقرر کررکھی ہیں۔ اس نے اپنے خواہش مندوں اوراپنی نعمت کے طلب گاروں کے لئے راہ کھول د ی ہے۔ وہ دست طلب کے نہ بڑھنے پر بھی اتناہی کریم ہے جتنا طلب وسوال کاہاتھ بڑھنے پر ۔وہ ایسااول ہے جس کے لئے کوئی قبل ہے ہی نہیں کہ کوئی شئے اس سے پہلے ہوسکےاورایسا آخرہے جس کے لئے کوئی بعدہے ہی نہیں تاکہ کوئی چیز اس کے بعد فرض کی جاسکے۔ وہ آنکھ کی پتلیوں کو(دورہی سے)روک دینے والاہے کہ وہ اسے پاسکیںیا اس کی حقیقت معلوم کرسکیں۔ اس پر زمانہ کے مختلف دور نہیں گذرتے کہ اس کے حالات میں تغیر وتبدل پیدا ہووہ کسی جگہ میں نہیں ہے کہ اس کے لئے حالات میںتغیروتبدل پیدا ہو، وہ کسی جگہ میںنہیں ہے کہ اس کے لئے نقل وحرکت صحیح ہوسکے۔ اگروہ چاندی اورسونے جیسی نفیس دھاتیں کہ جنھیں پہاڑوں کے معدن (لمبی لمبی )سانسیں بھر کر اچھال دیتے ہیں۔ اور بکھرے ہوئے موتی اورمرجان کی کٹی ہوئی شاخیں کہ جنھیں دریاؤںکی سیپیاںکھلکھلا کر ہنستے ہوئے اگل دیتی ہیں۔بخش دے ۔ تواس سے اس کےجودوعطاپر کوئی اثر نہیںپڑتااورنہ اس کی دولت کاذخیرہ اس سے ختم ہوسکتاہے اوراس کےپاس پھر بھی انعام واکرام کے اتنے ذخیرے موجودرہیں گے ،جسے لوگوں کی مانگ ختم نہیں کرسکتی۔ اس لئے کہ وہ ایسا فیاض ہے جسے سوالوں کاپورا کرنامفلس نہیںبناسکتا۔ اور گڑگڑاکر سوال کرنے والوں کاحد سے بڑھاہوا۔ اصرار بخل پر آمادہ نہیں کرسکتا ۔

اے (اللہ کی صفتو ں کو) دریافت کرنے والے دیکھو ! کہ جن صفتوں کاتمھیں قرآن نےپتہ دیا ہے ( ان میں) تم اس کی پیروی کرو، اوراسی کے نورہدایت سے کسب ضیاکرتے رہو ا ورجوچیزیںکہ قرآن میںواجب نہیں اورنہ سنت پیغمبر ؐ وآیمہ ہدیٰ میںان کانام ونشان ہے اورصرف شیطان نےاس کےجاننے کی تمھیں زحمت دی ہے ۔ اس کاعلم اللہ ہی کے پاس رہنے دو ۔ اوریہی تم پراللہ کے حق کی آخری حدہے۔ اور اس بات کویا درکھو کہ علم میںراسخ وپختہ لو گ وہی ہیں کہ جو غیب کےپرد وں میںچھپی ہوئی ساری چیزوں کااجمالی طورپراقرار کرتے (اوران پر اعتقادرکھتے) ہیں ۔ اگرچہ ان کی تفسیر وتفصیل نہیںجانتےاور یہی اقرار انھیںغیب پرپڑے ہوئے پردوں میں درانہ گھسنے سے بے نیاز بنائے ہوئے ہے ۔ اوراللہ نے اس بات پر ان کی مدح کی ہے کہ جوچیز ان کے احاطے علم سےباہرہوتی ہے ۔ اس کی رسائی سے اپنے عجز کااعتراف کرلیتے ہیں اوراللہ نے جس چیز کی حقیقت سے بحث کرنے کی تکلیف نھیںدی۔ اس میں تعمق وکاوش کے ترک ہی کانام رسوخ رکھاہے۔ لہذابس اسی پر اکتفاکر و اوراپنے عقل کے پیمانہ کے مطابق اللہ کی عظمت کومحدود نہ بناؤ ورنہ تمھارا شمارہلاک ہونے والوں میں قرار پائےگا۔

وہ ایسا قادر ہے کہ جب اس کی قدرت کی انتہامعلوم کرنے کے لئے وہم اپنے تیرچلارہاہو اورفکر ہرطرح کے وسوسوں کے ادھیڑبن سے آزادہوکر اس کے قلمرومملکت کے گہرے بھیدوں پرآگاہ ہونے کے درپے ہو۔ اوردل پراس کی صفتوں کی کیفیت سمجھنے کے لئے والہانہ طورپر دوڑپڑے ہوں اورذات الٰہی کو جاننے کے لئے عقلوں کی جستجو وتلاش کی راہیںحد بیان سے زیادہ دورتک چلی گئی ہوں تو اللہ اس وقت جب وہ غیب کی تیرگیوں کے گڑھوں کوعبور کررہی ہوتی ہیں ۔ ان کو (ناکامیوں کےساتھ) پلٹا دیتاہے چنانچہ جب اس طرح منہ کی کھاکرپلٹتی ہیںتو انھیںیہ اعتراف کرناپڑتا ہے کہ ایسی بے راہ رویوں سے اس کی معرفت کاکھوج نہیںلگایاجاسکتا اورنہ فکر پیماؤں کے دلوں میں اس کی عزت کے تمکنت وجلال کاذراسا شائبہ آسکتاہے۔ وہ وہی ہے کہ جس نے مخلوقات کو ایجاد کیا ۔بغیر اس کے کہ اپنے سے پہلے کسی اورخالق ومعبودکی بنائی ہوئی چیزوں کا چربہ اتارتااس لئے اپنی قدرت کی بادشاہت اوران عجیب چیزوں کے واسطہ سے کہ جن میں اس کی حکمت ودانائی کے آثار ( منہ سے) بول رہے ہیں اورمخلوق کے اس اعتراف سے کہ وہ اپنے رکنے تھمنے میں اس کے سہارے کی محتاج ہے ۔ ہمیں وہ چیز یںدکھائی ہیںکہ جنھوں نے قہراً دلیل قائم ہوجانے کے دباؤ سے اس کی معرفت کی طرف ہماری رہنمائی کی ہے اوراس کی پیدا کردہ عجیب وغریب چیزوں میںاس کی صنعت کے نقش ونگاراورحکمت کے آثار نمایاں اورواضح ہیں چنانچہ ہرمخلوق اس کی ایک حجت اورایک برہان بن گئی ہے ۔ چاہے وہ خاموش مخلوق ہو۔ مگر اللہ کی تدبیر وکارسازی کی ایک بولتی ہوئی دلیل ہے اورہستی صانع کی طرف اس کی رہنمائی ثابت وبرقرارہے ۔میں گواہی دیتاہوں کہ جس نے تجھے تیری ہی مخلوق سے ان کے اعضاکے الگ الگ ہونے اور تیری حکمت کی کارسازیوںسے گوشت وپوست میں ڈھکے ہوئے ان کے جوڑوں کےسروں کے ملنے میں تشبیہہ دی۔ اس نے اپنے چھپےہوئے ضمیر کوتیری معرفت سے وابستہ نہیں کیا اوراس کے دل کو یہ یقین چھوبھی نہیںگیا کہ تیرا کوئی شریک نہیں ۔گویا اس نے پیروں کاروں کایہ قول نہیں سنا جواپنے مقتداؤں سے بیزاری چاہتے ہوئے یہ کہیں گے کہ خدا کی قسم !ہم تو قطعاً ایک کھلی ہوئی گمراہی میں تھے کہ جب ہم سارے جہاں کے پالنے والے کے برابر تمھیں ٹہرایا کرتے تھے۔ وہ لوگ جھوٹے ہیں جو تجھے دوسر وں کے برابرسمجھ کر اپنے بتوں سے تشبیہہ دیتے ہیں اوراپنے وہم میں تجھ پرمخلوقات کی صفتیںجڑدیتے ہیںاور اپنے خیال میں اس طرح تیرےحصے بخرے کرتے ہیں ۔

جس طرح مجسم چیزوں کےجوڑ بند الگ الگ کئے جاتے ہی اوراپنی علقوں کی سوجھ بوجھ کے مطابق تجھے مختلف قوتوں والی مخلوقات پرقیاس کرتے ہیں۔ میں گواہی دیتاہوں کہ جس نے تجھے تیری مخلوقمےں سے کسی کے برابرجانا اس نے تیرا ہمسربناڈالا۔ اورتیرا ہمسربنانے والاتیری کتاب کی محکم آیتوں کے مضامین اوران حقائق کاجنھیں تیری طرف کےروشن دلائل واضح کررہے ہیں۔منکر ہے۔ توواللہ ہے کہ عقلوں کی حد میں گھر نھیں سکتاکہ ان کی سوچ بچار کی زدپر آکر کیفیات کو قبول کرلے۔ اور نہ ان کے غوروفکر کوجولانیوںمیںتیری سمائی ہے۔ کہ تومحدودہوکر ان کے فکری تصرفات کاپابند بن جائے۔

Hostinger Website Template by Pixelhaze