A blog post
Blog post description.
یوں تو تقدیر میں لکھا ہے بہت
ان اجالوں میں اندھیرا ہے بہت
سوکھے ہونٹوں پہ سمندر رکھ دو
کہ مری پیاس کا صحرا ہے بہت
ان کی خواہش ہے کہ مر جائیں وہ
جن کو جینے کی تمنا ہے بہت
جانے پہچانے گلی کوچے ہیں
اجنبی شہر شناسا ہے بہت
اوڑھ لی وقت کی چادر تہہ تہہ
زخم لوگوں نے کریدا ہے بہت
دور تک زندگی کی وحشتوں میں
مضطرب ہے کوئی بھٹکا ہے بہت
Hostinger Website Template by Pixelhaze
