A blog post

Blog post description.

11/12/20201 min read

یوں تو تقدیر میں لکھا ہے بہت

ان اجالوں میں اندھیرا ہے بہت

سوکھے ہونٹوں پہ سمندر رکھ دو

کہ مری پیاس کا صحرا ہے بہت

ان کی خواہش ہے کہ مر جائیں وہ

جن کو جینے کی تمنا ہے بہت

جانے پہچانے گلی کوچے ہیں

اجنبی شہر شناسا ہے بہت

اوڑھ لی وقت کی چادر تہہ تہہ

زخم لوگوں نے کریدا ہے بہت

دور تک زندگی کی وحشتوں میں

مضطرب ہے کوئی بھٹکا ہے بہت

Hostinger Website Template by Pixelhaze